لکھنؤ، 26/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آر ٹی آئی کارکن نوتن ٹھاکر نے کہا کہ ریاست میں سابق سماج وادی پارٹی (ایس پی)حکومت میں کل 3921پی پی ایس افسران کے تبادلے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اتر پردیش میں صوبائی پولیس سروس (پی پی ایس)افسروں کی کل تعداد924ہے، اس کے برعکس اکھلیش یادوکے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے مارچ 2012سے مارچ 2017کی 5سال کی مدت میں ریاست میں کل 3921پی پی ایس افسران کے تبادلے ہوئے تھے۔انہوں نے بتایاکہ آر ٹی آئی سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق سماج وادی پارٹی کی حکومت کے پہلے ہی سال میں 1199پی پی ایس افسروں کے تبادلے ہوئے تھے۔آئی جی انتظامیہ، اتر پردیش پرکاش ڈی کی طرف سے ان کو گزشتہ 21/مارچ 2017کو بھیجی گئی 524صفحات کی رپورٹ کے مطابق اس دوران حکومت نے 480مقدمات میں اپنے ہی تبادلہ حکم کو منسوخ یا تبدیل کیا، ان میں 123حکم مسترد کئے گئے جبکہ 357حکم پر نظر ثانی کی گئی تھی۔آر ٹی آئی اطلاعات کے مطابق، چار بار حکومت کے ایک ہی حکم کے ذریعہ سو سے زیادہ پی پی ایس افسران کا تبادلہ کیا گیا۔اس کے علاوہ چار دیگر مواقع پر 50سے زائد پی پی ایس افسران کا تبادلہ ایک ہی ہدایت پر ہوا۔اکھلیش یادو کے 15/مارچ 2012کو وزیر اعلی بننے کے بعد27/مارچ کو 120، یکم اپریل کو153، 7 /اپریل کو 110اور 16/اکتوبر 2012کو 121پی پی ایس افسروں کے تبادلے ایک ہی حکم پر ہوئے تھے،تووہیں اسمبلی انتخابات کے وقت پولیس افسران کو بہت راحت تھی اور اسمبلی انتخابات 2017میں الیکشن کمیشن کی ہدایات پرمحض8 پی پی ایس افسروں کا تبادلہ کیا گیا۔ایس پی حکومت بننے کے بعد پہلا تبادلہ 17/مارچ 2012کو بی پی اشوک کا ایس پی سٹی میرٹھ سے آر ٹی سی چنار ہوا تھا جبکہ اس حکومت میں پی پی ایس افسروں کا آخری تبادلہ 25/دسمبر 2016کو 25افسروں کا کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بھاری تبادلے کا نتیجہ یہ رہا کہ پانچ سال کی مدت میں اوسطا دو پی پی ایس افسر ان کا یومیہ کی شرح سے تبادلہ ہوئے جو اوسطا 4.25تبادلہ فی پی پی ایس افسر رہا۔